حال ہی میں ایک کانفرنس میں شرکت کی جہاں ایک کیس زیر بحث آیا۔ لاہور کے جنرل ہسپتال میں ایک نوجوان مریض کو لایا گیا جس کو فالج ہوا تھا اور اس کا بائیں ساٸڈ کا بازو اور ٹانگ مکمل طور پر مفلوج ہو گٸ تھی۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے فالج کے علاج کے لیے مخصوص انجکشن مریض کو لگایا اور مریض بغیر کسی کمزوری کے کچھ ہی گھنٹوں گھر چلا گیا پاٶں پر چل کر گیا۔
یہ میڈیکل سائنس کے حقیقی معجزات ہیں اور آج اس پر ھم بات کریں گے۔ یہ معلومات ہم سب کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ فالج زندگی بھر کی معزوری کا باعث بن سکتا ہے جہاں زندگی دوسروں پر منحصر ہوجاتی ہے۔
فالج بنیادی طور پر ایک ایسی حالت ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی بند ہو جاتی ہے۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے, ایک جس میں خون کے جمنے کی وجہ سے خون کی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور دوسرا جس میں خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں۔
فالج کے بعد مریض کو عام طور پر جسم کے ایک ساٸڈ اور چہرےکی کمزوری ہو جاتی ہے۔
ہمارا موضوع خون کی نالیوں میں خون کے جمنے کی وجہ سے فالج کے علاج پر ہے ۔
ٹی پی اے (TPA) نامی انجیکشن ہے جو اس جمے ہوۓ خون یا کلاٹ کو تحلیل کر سکتا ہے۔ لہٰذا اگر بروقت یہ انجکشن دماغ کے ٹشوز کے مکمل ضاٸع ہو جانے پہلے دے دیا جائے تو خون کی شریانوں کی رکاوٹ دور ہو سکتی ہے۔
خوش قسمتی سے یہ انجکشن پاکستان میں کئی مراکز میں دستیاب ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ آپ فالج کی ابتداٸ علامات کو پہچانیں اور بر وقت ہسپتال پہنچیں۔ اگر آپ ساڑھے 3 گھنٹے کے اندر ہسپتال پہنچ جاٸیں تو انجکشن لگایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ وقت گزر جاۓ تو دماغ کے ٹشوز ضاٸع ہو جاتے ہیں اور انجیکشن سے کمزوری میں بہتری نہیں آۓ گی۔
فالج کی ابتداٸ علامات کا جاننا اور یاد رکھنا سب کے لیے بے ح ضروری ہے ۔
اہم علامات کو لفظ FAST یا BE FAST کے ذریعے یاد رکھی جاتی ہیں۔
B۔balance ... توازن برقرار) نہ رکھ پانا)
(آنکھ کا مسئلہ)E.eye
F.face ( چہرے کی کمزوری)
A.arm( بازو کی کمزوری )
S. speech ( بات کرنے میں مشکل)
T.time ( وقت پر ہسپتال پہنچنا)
حکومت پنجاب نے اس کے علاج کے لیے صوبے کے مختلف علاقوں میں پرائمری سٹروک سینٹر بنائے ہیں جن کی تفصیلات نیچے ہیں۔ یہاں پر 24 گھنٹے ایمرجنسی میں دو بیڈ سٹروک یا فالج کے مریضوں کے لیے رکھے جائیں گے۔
لہذا اگر کسی کو بھی یہ علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ہسپتال جائیں۔
برائے مہربانی اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ لوگوں کی زندگیاں بچ سکیں۔ جزاک اللہ
